82

فیض احمد فیض کے کلام ‘ ہم دیکھیں گے‘ پراِعترا ض

پندرہ دسمبر کو دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ پر پولیس کی مبینہ زیادتی اور بربریت کے خلاف بھارت کی دیگر یونیورسٹیوں کی طرح آئی آئی ٹی کانپور کے طلبہ نے بھی ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ سترہ دسمبر کو منعقدہ اس مظاہرے میں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ‘ہم دیکھیں گے‘ بھی پڑھی گئی تھی۔

ڈاکٹر منیندر اگروال کے مطابق، ”اس معاملے کی انکوائری کے لیے ان کی صدارت میں ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کچھ طلبہ سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور چھٹیوں کے بعد یونیورسٹی لوٹنے پر دیگر طلبہ سے بھی تفتیش کی جائے گی۔ کمیٹی کو پندرہ دن کے اندر اپنی رپورٹ دینے کے لیے کہا گیا ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ قصور وار پائے جانے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اِعترا ض کِن اشعار پر ہے

انکوائری کمیٹی کے سربراہ منیندر اگروال کے مطابق شکایت کنندگان کو سب سے زیادہ اعتراض درج ذیل اشعار پر تھا:

جب ارضِ خدا کے کعبے سے

سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہل صفا مردود حرم

مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے

سب تخت گرائے جائیں گے

بس نام رہے گا اللہ کا

جو غائب بھی ہے حاضر بھی

’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں