156

اونٹنی کا دودھ ذیابیطس میں مفید قرار

مشرق کی طرح مغرب میں بھی اونٹنی کے دودھ کے استعمال کا رحجان جاری ہے لیکن ناقدین کا اصرار ہے کہ انسانوں کی بجائے جانوروں پر اس کے تجربات کئے گئے ہیں۔ تاہم اب ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اونٹنی کا دودھ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔اونٹنی کا دودھ ، دہی اور مکھن وغیرہ اپنی زبردست غذائیت کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتے ہیں کیونکہ ان میں وٹام سی، فولاد، کیلشیئم، انسولین اور پروٹین کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔اس کے لیے ماہرین نے دودھ میں موجود چکنائیوں پر تحقیق کی ہے۔ اگرچہ ہمارے جسم میں اندرونی جلن اور سوزش درحقیقت اس وقت ہوتی ہے جب جسم اندرونی جراثیم سے لڑ رہا ہوتا ہے لیکن موٹاپے اور ذیابیطس کی کیفیت میں اندرونی جسمانی جلن ایک مسلسل وبال بن جاتی ہے۔

جسمانی چکنائیوں میں موجود ایک خاص قسم کا خلیہ (سیل) میکروفیج کہلاتا ہے جو اندرونی سوزش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کارڈف میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں بایومیڈیکل سائنسس کے پروفیسر کائتھ مُور اور ان کے ساتھیوں نے چکنائی میں موجود میکروفیج کو اونٹنی کے دودھ کے لائپڈز(ایک طرح کی چکنائی) میں ملایا اور ان کا بغور مطالعہ کیا۔کئی تجربات کے بعد ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اونٹ کے دودھ کی چکنائیوں نے میکروفیج کو کم کیا بلکہ جلن پیدا کرنے والے ایک پروٹین ’انفلیمیسوم‘ کو بھی بہت کم کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں