171

صبر ابھی 8 میچز باقی ہیں

ہم پاکستانیوں میں یہ خامی ہے کہ توقعات کا محل بہت جلدی تعمیر کر لیتے ہیں اور پھرجب وہ دھڑام سے گر پڑے تو سب غم میں ڈوب جاتے ہیں، سارا سال کچھ پڑھا نہیں مگر جب امتحان دے دیں تو اے گریڈ کی توقعات باندھ لی جاتی ہیں، اور تو اور ہاکی کب کی ٹوٹ چکی مگر اسی ٹوٹی ہاکی کے ساتھ جب کسی ایونٹ میں حصہ لیں تو گولڈ میڈل سے کم تو سوچتے ہی نہیں۔خیر شکرہے کرکٹ ٹیم کا ابھی ہاکی والا حال تو نہیں ہوا لیکن جس ڈگر پر وہ چل رہی ہے اگر سنبھالا نہیں گیا تو جلد معاملات قابو سے باہر ہو جائیں گے، ہماری ون ڈے رینکنگ چھٹی ہے، رواں سال16 ون ڈے میچز میں سے صرف 2 میں فتح حاصل کی، مسلسل 11 میچز میں شکست کا شرمناک ریکارڈ بنا لیا، اس کے باوجود ورلڈکپ میں لوگوں کی توقعات آسمان سے باتیں کر رہی تھیں، مگر پہلے ہی میچ میں ویسٹ انڈیزکے ہاتھوں7وکٹ کی ناکامی کے بعد حقیقت کا اندازہ ہو گیا۔ ہمیں ٹیم کو اس کی صلاحیت اور حالیہ کارکردگی کے تناظر میں پرکھنا چاہیے، فی الحال ٹرافی جیتنے کی توقع نہ رکھیں صرف یہ دعا کریں کہ کسی طرح سیمی فائنل میں پہنچ جائیں، یہ مان لیں کہ دنیا کی تمام ٹیمیں بہت آگے نکل گئیں اور ہم پیچھے رہ گئے، پیس بولنگ اٹیک ہماری جان ہوا کرتا تھا، اب کل کے بچے بھی کھڑے کھڑے چھکے لگا دیتے ہیں، بولنگ کوچ اظہر محمود سے کبھی کوئی جواب طلبی نہیں ہوتی، عامر کو 2 سال تک بغیر کسی پرفارمنس کے کھلایا گیا اور اب ایک میچ میں تین وکٹیں لینے پر چاہنے والے ایسے خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں جیسے ورلڈکپ جتوا دیا ہو۔ابھی تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ چھریاں تیز کیے بیٹھے تھے اور آہستہ آہستہ باہر آ رہے ہیں، اصل ہنسی تو نجم سیٹھی کی ٹویٹ دیکھ کرآئی جو اپنے دور کی کامیابیاں گنوا رہے تھے،موجودہ ٹیم کے تمام کوچز، کپتان، ٹیم مینجمنٹ سب انہی کے دور میں ان پوزیشنز پر آئے، لہذا اگر کارکردگی خراب ہے توسابق چیئرمین بھی اس میں قصوروار ہیں،ان کے دور میں ٹیم کب ہر وقت سب سے آگے رہی،جہاں تک مجھے یاد ہے ون ڈے میں تو ہم کبھی نمبر ون نہیں بنے، پچھلے ورلڈکپ میں کیا حال ہوا وہ تو سب کو یاد ہی ہوگا، موجودہ بورڈ حکام بدقسمتی سے سابقہ انتظامیہ کی ڈگر پر ہی چل پڑے ہیں، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، ٹیم کو اس حال تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے والے انضمام الحق کیوں انگلینڈ گئے؟ اس کی اجازت کس نے کی؟ کیوں ان پر500 ڈالر یومیہ خرچ کیے جا رہے ہیں؟

کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، کوچز سابق کپتان کی انتظامی معاملات میں دخل اندازی پر بالکل بھی خوش نہیں ہیں، ٹور سلیکشن کمیٹی میں شمولیت پر بھی اعتراض سامنے آئے ہیں، ایسے میں چیئرمین احسان مانی کی خاموشی حیران کن ہے، وہ پی سی بی کے سربراہ ہیں جب معاملات بگڑے ہوئے صاف نظر آ رہے ہیں تو دخل اندازی کیوں نہیں کرتے؟ورلڈکپ چار سال میں ایک بار آتا ہے، انگلینڈ نے گذشتہ ایونٹ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد سے ہی اگلے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں فرق سب کے سامنے ہے، ہم نے کوئی تیاری نہیں کی، حد تو یہ ہے کہ ورلڈکپ سے قبل سیریز میں کپتان سمیت کئی اہم کھلاڑیوں کوباہر بٹھا دیا، مگر چیف سلیکٹر کو کوئی روکنے والا نہیں تھا، ایسی ہی لاتعداد وجوہات ہیں مگر ابھی ہمیں ایونٹ ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہیے، فی الحال کھلاڑیوں کو پرفارمنس پر توجہ دینے دیں شاید پھر کوئی معجزہ ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں