166

کیکڑے کے خول اور نینوٹیکنالوجی پر مشتمل خون کو فوری طور پر روکنے والی پٹی

کیکڑے کی جلد کے خول میں پائی جانے والی ایک معدن کائٹوسان اور نامیاتی مرکب سے تیارکردہ نینو مادوں سے بنی یہ پٹی خون کے بہاؤ کو فوری طور پر روکتی ہے ۔ زیادہ خون بہنے سے دنیا بھر میں ہر روز لوگ موت کے شکار ہوتے ہیں اور اس طرح یہ نئی ڈریسنگ مریضوں کی جان بچاسکتی ہے۔کائٹوسان سے نینوفائبر یا ریشے بنائے گئے ہیں اور اسے ایک شکروالے ہائیڈروجل(hydrogel) میں رکھا گیا ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہائیڈروجل سات روز کے اندر گھل کر ختم ہوجاتا ہے اور پٹی کو بار بار ہٹانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہاں تک کہ جنگ اور حادثوں میں شدید زخمی ہونے والے افراد بھی اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

اگرچہ کائٹوسین کو کسی مرہم پٹی میں استعمال کرنا ایک چیلنج تھا اور اس کے لیے ماہرین نے ایک مچان نما نینواسٹرکچر بنایا جو بہتر انداز میں پھیلتا ہے اور خون کے بہاؤ کو بند کرنے کے ساتھ ساتھ زخم کو تیزی سے مندمل بھی کرتا ہے۔پہلے مرحلے میں شکر کے سالمات سے بنے ہائیڈروجل بنائے گئے جن میں کائٹوسین کے مالیکیول(Molecule) پیوست ہوگئے اور اس کے بعد جادوئی پٹی تیار ہوگئی ۔ دیگر ماہرین نے اس ایجاد کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اسے جلد از جلد عام تجارتی فروخت کے لیے پیش کرنے پر زور دیا ہے۔ازخود گھل کر ختم ہوجانے والی یہ انقلابی پٹی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے ماہرین نے بنائی ہے۔ یہ عام پٹی کی طرح لچکدار ہے اور اسے ہر قسم کے زخموں پر لگایا جاسکتا ہے۔ اس وقت بازار میں دستیاب تمام حیاتی انجذاب (بایوآبزروبینٹ) پٹیوں کے مقابلے میں یہ بہترین کارکردگی کا حامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں