153

پی سی بی کا سزا یافتہ شرجیل خان کو کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار

شرجیل خان(Sharjeel Khan) کو پی ایس ایل کے دوسرے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ڈھائی سال کی پابندی عائد کی گئی تھی، یہ سزا رواں برس اگست میں ختم ہونے جارہی ہے، کرکٹر سزا ختم ہونے سے پہلے خود کو کرکٹ کے لیے تیار کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ذرائع کے مطابق جارح مزاج بائیں ہاتھ کے بلے باز نے پی سی بی حکام کو درخواست کی تھی کہ انہیں پابندی ختم ہونے سے پہلے کرکٹ سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت دی جائے تاہم پی سی بی نے اسے مسترد کردیا ہے۔

2017 کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن میں اسپاٹ فکسنگ کرنے کے جرم میں اوپنر کو پانچ سال کی سزاسنائی گئی تھی، جس میں اڑھائی برس کی معطلی شامل تھی، اسلام آباد(Islamabad) یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے اوپنر کو پی سی بی اینٹی کرپشن(Anti Corruption) قوانین کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔پی سی بی حکام کا موقف ہے کہ شرجیل خان نے بحالی پروگرام میں شرکت کے لیے وضع کردہ قواعد کو فالو نہیں کیا، جس کے تحت مکمل جرم کا اعتراف کرنا ضروری ہے، شرجیل خان نے صرف رپورٹ نہ کرنے کا اعتراف کیا ہے، انہوں نے فکسنگ کے تحقیقاتی عمل میں بھی تعاون نہیں کیا۔ کھلے عام جرم کا اعتراف کرنے کے ساتھ معافی مانگنا بھی لازمی فعل ہے۔ کرکٹر کو فکسنگ سے بچنے کے لیے پیغامات میں حصہ لینا بھی ضروری تھا تاہم شرجیل خان نے ان میں کسی چیز کو پورا نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں